والمارٹ کی کیشیئر نے بےیقینی سے پہلے میرے لائیسنس کو دیکھا
پھر میرے چہرے کو گھورا
پھر دوبارہ لائیسنس کو
کیونکہ ڈی-ایم-وی کی تصویر میں میری نظریں قدراً جُھکی ہوئی اور بانچھیں کِھلی ہوئی تھیں۔

میری تصویر کو مُختلف زاویوں سے،
بدلتی دُھوپ میں،
پَلٹ پَلٹ کر مُعائنہ کرتے ہوئے کہنے لگی،
 "تم اصل میں گوری لگتی ہو”
"مشرقی"
اُس نے اپنے لمبے ناخُن سے ثبوت کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے
میری تصویر پہ فتویٰ جاری کیا۔

یوں ہمیشہ نہیں ہوتا لیکن گاؤں میں اس لڑکی کی کوکھ کو قابل احترام مانا جا تا تھا۔ اس کے بچے کا باپ خودتو ٹریکٹر کے ساتھ ہونیوالے حادثے کی نظر ہو گیا لیکن اپنی نشانی پیچھے چھوڑ گیا۔ حادثہ کی وجہ: ایک ٹیلہ جونظروں سے اوجھل ہوتے ہی ٹریکٹر سے یوں ٹکرایا کہ ایک جھٹکے میں سب خاک ہو گیا۔ یہ نئی نویلی بیوہ کچھ ہی دنوں میں ماں بننے والی تھی اس لئے گاؤں والوں نے عہد کیا کہ اس کی بیوگی کی خبر اس تک پہنچنے نہ دینگے۔
"!ہائے یہ بچہ! یہ بچہ"

یوں ہمیشہ نہیں ہوتا لیکن گاؤں میں اس لڑکی کی کوکھ کو قابل احترام مانا جا تا تھا۔ اس کے بچے کا باپ خودتو ٹریکٹر کے ساتھ ہونیوالے حادثے کی نظر ہو گیا لیکن اپنی نشانی پیچھے چھوڑ گیا۔ حادثہ کی وجہ: ایک ٹیلہ جونظروں سے اوجھل ہوتے ہی ٹریکٹر سے یوں ٹکرایا کہ ایک جھٹکے میں سب خاک ہو گیا۔ یہ نئی نویلی بیوہ کچھ ہی دنوں میں ماں بننے والی تھی اس لئے گاؤں والوں نے عہد کیا کہ اس کی بیوگی کی خبر اس تک پہنچنے نہ دینگے۔
"!ہائے یہ بچہ! یہ بچہ"

جب اُس کی بیٹی نے ُبلا کربتایا کہ گھوڑا کانپ رہا ہےاوراس کے گردن کے بال جھاگ ُنما اورچمکدارلگ رہے ہیں، ماں نے بڑی سنجیدگی سے کہا

"بیٹا اسے باہر لے آؤ" اور پھر دہرایا، "بس اسے اصطبل سے باہر لے آؤ"

بغیر کسی کیوں کا جواب دیئے کہ اگر اسے باہر نہ لایا گیا اور وه وہیں مر گیا تو بعدازمرگ اس کا جسم آخری سانس میں اکڑ جائیگا اور باہر نکالنا ناممکن ہو جائے گا۔ اور پھر انجام دہنده کو گھوڑے کی ٹانگیں توڑ کے ہڈیوں کے ڈھیر کو باہر نکالنا پڑے گا۔

جب اُس کی بیٹی نے ُبلا کربتایا کہ گھوڑا کانپ رہا ہےاوراس کے گردن کے بال جھاگ ُنما اورچمکدارلگ رہے ہیں، ماں نے بڑی سنجیدگی سے کہا

"بیٹا اسے باہر لے آؤ" اور پھر دہرایا، "بس اسے اصطبل سے باہر لے آؤ"

بغیر کسی کیوں کا جواب دیئے کہ اگر اسے باہر نہ لایا گیا اور وه وہیں مر گیا تو بعدازمرگ اس کا جسم آخری سانس میں اکڑ جائیگا اور باہر نکالنا ناممکن ہو جائے گا۔ اور پھر انجام دہنده کو گھوڑے کی ٹانگیں توڑ کے ہڈیوں کے ڈھیر کو باہر نکالنا پڑے گا۔

 پیارے خاموش خدا اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم کیا مانتے ہیں

میں غم زدہ اور قائل ہوں کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے

ان سرد لمحات میں تمہارا آسرہ لوں،  اور اس خلا کو تمہارے نام سے پر کروں

ایک جگہ اور دوسری جگہ کے بیج کھنچا ہوا میں بے یقینی کے عالم میں

ٹمٹماتے ہوئے ہر بہار نشاندہی کرتی ہے